بچھو اور کچھوا | The Scorpion and the Tortoise | Short Urdu Stories for Kids

بچھو اور کچھوا | The Scorpion and the Tortoise
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل کے کنارے ایک بچھو رہتا تھا۔ اس کے قریب ایک دریا بہتا تھا، اور ایک دن اسے دریا کے پار جانا تھا۔ لیکن بچھو تیر نہیں سکتا تھا، اس لیے وہ بہت پریشان ہوا۔
اچانک، بچھو کو ایک کچھوا دریا کے کنارے نظر آیا۔ کچھوا آرام سے چل رہا تھا کیونکہ اسے دریا عبور کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی۔ بچھو نے سوچا، “یہ بہترین موقع ہے۔ میں کچھوے سے مدد مانگتا ہوں۔”
بچھو کچھوے کے پاس گیا اور بولا، “کچھوا بھائی! کیا آپ میری مدد کریں گے؟ مجھے دریا کے پار جانا ہے، لیکن میں تیر نہیں سکتا۔ کیا میں آپ کی پیٹھ پر بیٹھ کر دریا عبور کر سکتا ہوں؟”
کچھوا حیران ہوا اور بولا، “لیکن تم بچھو ہو! تمہارے پاس زہر کا ڈنک ہے، اور اگر تم نے مجھے ڈنک مار دیا تو میں مر جاؤں گا!”
بچھو نے معصومیت سے کہا، “نہیں کچھوا بھائی! اگر میں نے آپ کو ڈنک مارا تو میں خود بھی دریا میں ڈوب جاؤں گا۔ ایسا کرنا میرے لیے نقصان دہ ہوگا۔”
کچھوے نے سوچا کہ بچھو کی بات میں وزن ہے، اور اسے یقین آگیا کہ بچھو اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اس لیے کچھوا بچھو کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا میں تیرنے لگا۔
راستے میں اچانک بچھو نے کچھوے کو ڈنک مار دیا۔ کچھوا درد سے چیختے ہوئے بولا، “تم نے یہ کیا کیا؟ اب ہم دونوں ڈوب جائیں گے!”
بچھو نے افسوس سے کہا، “مجھے معاف کرنا، لیکن یہ میری فطرت ہے۔ میں چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پایا۔”
کچھوا اور بچھو دونوں دریا میں ڈوبنے لگے، اور کچھوا نے آخری سانس لیتے ہوئے سوچا کہ ہمیشہ اپنی فطرت کے بارے میں سوچنا اور دوسروں پر اندھا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔

بچھو اور کچھوا

This short Urdu story tells us that “Trusting blindly without considering someone’s nature can lead to harm. Always be cautious and mindful of the traits of others before making decisions.”