Ant and Grasshopper | Urdu Short Story for Kids | چونٹی اور ٹڈا

چونٹی اور ٹڈا | The Ant and Grasshopper

ایک خوبصورت دن تھا، اور گرمیوں کا موسم عروج پر تھا۔ ایک باغ میں ایک چونٹی اور ٹڈا رہتے تھے۔ چونٹی ہمیشہ کام میں مصروف رہتی، دن بھر دانے جمع کرتی اور اپنے بل میں ذخیرہ کرتی رہتی۔ دوسری طرف، ٹڈا سارا دن گانا گاتا اور مزے سے گھومتا پھرتا۔ وہ چونٹی کو دیکھ کر ہنستا اور کہتا، “ارے چونٹی، تم کیوں اتنی محنت کرتی ہو؟ آؤ میرے ساتھ، مزے کرو، گانے گاؤ، ناچو!”چونٹی مسکراتی اور کہتی، “ٹڈے بھائی! میں ابھی محنت کر رہی ہوں تاکہ سردیوں میں میرے پاس کھانے کا ذخیرہ ہو۔ جب سردیاں آئیں گی اور باغ میں کچھ نہیں ہوگا تو یہ دانے مجھے بھوک سے بچائیں گے۔”ٹڈا چونٹی کی بات کو نظرانداز کرتا اور کہتا، “سردیاں تو ابھی بہت دور ہیں، تمہیں ابھی سے اتنی فکر کیوں؟” وہ پھر سے گانا گانے اور ناچنے لگتا۔

وقت گزرتا گیا اور سردیاں آ گئیں۔ باغ میں اب کوئی پھول نہیں تھا، نہ پتے، اور نہ ہی کھانے کے لیے کچھ بچا۔ ٹڈا بھوک سے نڈھال ہو گیا اور دانے ڈھونڈنے لگا، مگر اسے کچھ نہ ملا۔تب اسے چونٹی کا بل یاد آیا۔ وہ چونٹی کے پاس گیا اور بولا، “چونٹی بہن، میں بہت بھوکا ہوں، کیا تم مجھے کچھ کھانے کو دے سکتی ہو؟”چونٹی نے ہمدردی سے کہا، “میں نے تمہیں کہا تھا کہ گرمیوں میں محنت کرو تاکہ سردیوں میں بھوک نہ لگے۔ لیکن تم نے میری بات نہیں سنی۔ پھر بھی، میرے پاس کچھ اضافی دانے ہیں، تمہیں بھی دوں گی، مگر اگلی بار گرمیوں میں محنت کرنا مت بھولنا۔”ٹڈا شرمندہ ہوا اور چونٹی کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ گرمیوں میں محنت کرے گا اور مستقبل کی تیاری کرے گا۔

کہانی کا سبق:ہمیں ہمیشہ مستقبل کی تیاری کرنی چاہیے اور آج کی محنت کل کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔

چونٹی اور ٹڈا
urdu story for kids

This story conveys a moral lesson about the importance of hard work and planning for the future, presented in a fun and engaging way for kids