اے حبیب خدا اے حبیب خدا

تیری نعتیں نہ سناؤں یہ ہو نہیں سکتاتیری محفل نہ سجاؤں یہ ہو نہیں سکتااے حبیب خدا اے حبیب خدا تیرے ذکر سے سجائے رب نے تیس پارےتیری بات جو ہیں کرتے رب کو وہی پیارےتو نہ تیری بات بتاؤں یہ ہو نہیں سکتااے حبیب خدا اے حبیب خدا تیری دیوانگی میں یہ دل رہے

Naat – اے حبیب خدا ہو کرم کی نگاہ

اے حبیب خدا ہو کرم کی نگاہعرض کرتا ہے یہ اِک ادنیٰ گدا میرے دل کی تمنا یہ پوری کروحکم ہو کہ مدینے کی جانب چلومیرا دامن ہے خالی اسے بھی بھروچاہتا ہوں تجھ سے میں تیری عطا مشکلوں نے ہے آکے گھیرا مجھےراحت کا دکھا دے سویرا مجھےسب ہی بولیں دیوانہ تیرا مجھےاپنی الفت

Beautiful Dua in the form of Poetry by “Javed”

Beautiful Dua | Islamic Poetry in Urdu by Javed کرم کی ہو ہم پہ نگاہ یا الہیکرو اپنی رحمت عطا یا الہی ہدایت کا رستہ جو تو نے بتایااسی پہ ہمیں بھی چلا یا الہی تیرے ذکر میں بسر ہوں سانسیںنہ سانسوں کو کر تو جدا یا الہی اس کے سوا تو تمنا نہیں ہےتو

بنام گمنام – Urdu Poem by Muhammad Khizar Hayat Khizar

بنام گمنام اے میرے یار تیری یاد بہت آتی ہے سانس لینے کی بھی فرصت نہ یہ بچاتے ہے محبتیں تیری اب جان پہ بن آتی ہیں     اک تیرے نام پہ یہ سانس اکھڑجاتی ہے عشق کے راستے ہیں یار خار زار بہت یاد تیری مگر انہیں پہ اب بلاتی ہے      لے کے اب نام

Poem by Khizar Hayat آخری شعر بتانے کے لئے

Urdu Poem by Muhammad Khizar Hayat Khizar آخری شعر بتانے کے کیلئے آج پھر شاعری کی ڈور پکر بیٹھا ہوں آج پھر دور کے سازوں سے جھگڑبیٹھا ہوں کون سنتا ہے میری شاعری کو نالوں کو کون مانے گا میرے عشق کے حوالوں کو میں ہوں مجبور کہ میں عا شقی کا قیدی ہوں بندھا

The Journey of Grief | سفرِ غمِ حیات

The Journey of Grief | سفرِ غمِ حیات میں رو پڑا کہ یاد جب آیا پرانا وہ میں رو پڑا بنا کیوں ہنسی کا بہانہ وہ وہ ہنس پڑی یہ دیکھ کر کہ رو پڑا ہوں میں     وہ ہنس پڑی کہ عشق سے ہی کیوں لڑا ہوں میں  اشکوں نے میرے چہرہ میرا ڈھانپ لیا

Ghazal in Urdu

Ghazal in Urdu by Khizar میں ہوں گم نام، تیرا نام، برائے نام تجھ سے نسبت کی تھی کوشش ہو گیا ہوں نا کام کس طرح طنزومزاحِ جہاں سے جنگ لڑوں جب تیرے نام کی حسام ہی مجھے حرام    گر یہ میں سوچ بھی لوں کہ لڑوں تو کیا لڑوں غم و آلام کے آگے

Hamd - Khana Kaba

Hamd

Urdu Hamd by Ali Abbas Alvi حمد باری تعالی میرے جادہ پیما مولا بنا قیسِ وفا اپنا میں جنس نادان ہوں بنا جنسِ وفا اپنا میں بندۂ گنہگار ہوں تجھ سے بیزار ہوں تیرا ہو جاؤں ایسا بنا بندۂِ وفا اپنا      میں کروں سجدہ تیرا جو آہِ سحر گاہی میں اُٹھ جاؤں خامشی سے کرا