Right is Might | Jis ki Lathi Uski Bhains

Right is Might | Jis ki Lathi Uski Bhains

جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” کی کہانی”

ایک گاؤں میں دو کسان رہتے تھے۔ ایک کسان کے پاس ایک بھینس تھی جبکہ دوسرے کے پاس کوئی جانور نہیں تھا۔ ایک دن جس کسان کے پاس کوئی جانور نہیں تھا، اس نے دعویٰ کیا کہ بھینس اس کی ہے۔ دونوں کسانوں میں جھگڑا شروع ہو گیا کہ بھینس کس کی ہے۔

یہ جھگڑا حل کرنے کے لیے وہ دونوں کسان گاؤں کی پنچایت کے پاس چلے گئے۔ پنچایت کے سردار نے دونوں کی بات سنی اور پھر ایک آزمائش کا فیصلہ کیا: وہ بھینس کو دونوں کسانوں کے درمیان رکھے گا، اور جس کے پاس بھینس جائے گی، وہی اس کا مالک مانا جائے گا۔

جس کسان نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا، اسے احساس ہوا کہ وہ یہ آزمائش ہار سکتا ہے، اس لیے اس نے آزمائش سے پہلے چپکے سے بھینس کو لاٹھی سے مارا، تاکہ بھینس اس سے ڈر جائے۔ نتیجتاً، جب آزمائش شروع ہوئی تو بھینس ایماندار کسان کے پاس جانے سے ڈری اور ڈر کے مارے اس جھوٹے کسان کے پاس چلی گئی۔

یہ دیکھ کر پنچایت کے سردار نے فیصلہ دیا کہ بھینس اسی کسان کی ہے جس کے پاس وہ گئی تھی، کیونکہ وہی اس کا مالک سمجھا گیا۔ اس طرح ایماندار کسان بھینس سے محروم ہو گیا اور جھوٹا دعویٰ کرنے والا کسان بھینس لے کر چلا گیا۔

کہانی کا سبق:

یہ کہانی اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ بعض اوقات طاقت یا خوف، انصاف یا سچائی کے بجائے، کسی صورتحال کا نتیجہ طے کرتے ہیں۔ “جس کی لاٹھی، اس کی بھینس” کا مطلب ہے کہ جس کے پاس طاقت ہے، وہی کسی چیز پر قابض ہو سکتا ہے، چاہے وہ حق پر ہو یا نہ ہو۔

Jis ki Lathi Uski Bhains

Right is Might | Jiski Lathi Uski Bhains