محاورے کا مطلب
ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کا لفظی مطلب ہے: ناچنا تو آتا نہیں اور کہتا ہے کہ صحن (آنگن) ٹیڑھا ہے۔ یعنی جب کوئی شخص خود کسی کام میں ماہر نہ ہو تو اپنی کمزوری چھپانے کے لیے بہانے بناتا ہے اور قصور اوزاروں، حالات یا دوسروں کا بتاتا ہے۔
یہ محاورہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ناکامی پر بہانے ڈھونڈنے کے بجائے اپنی غلطی مانیں اور خود کو بہتر بنائیں۔
| زبان | محاورہ / کہاوت | مفہوم |
|---|---|---|
| اردو | ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا | نااہلی پر بہانہ |
| Roman Urdu | Naach na jaane aangan terha | — |
| English | A bad workman blames his tools | One who doesn’t know how to dance blames the floor |
| ہندی/پنجابی | ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا | یہی محاورہ عام بول چال میں |
جملوں میں استعمال
- سارا سال پڑھائی نہیں کی اور اب کہتا ہے استاد نے مشکل سوال دیے، ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔
- کھانا جل گیا تو بہو نے کہا چولہا خراب ہے؛ ساس مسکرا کر بولیں، ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔
- میچ ہارنے کے بعد کھلاڑی پچ کو برا کہنے لگے، حالانکہ دوسری ٹیم اسی پچ پر جیت گئی؛ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔
کہانی: میلے کا ناچ
ایک گاؤں میں ہر سال بیساکھی کا میلہ لگتا تھا۔ ڈھول کی تھاپ پر لوگ بھنگڑا اور لڈی ڈالتے اور سب سے اچھے ناچنے والے کو انعام ملتا۔ اس سال گاؤں کی ایک لڑکی شمیم نے بھی حصہ لینے کا اعلان کیا۔ وہ سہیلیوں کے سامنے بڑے فخر سے کہتی، "اس بار انعام میرا ہی ہوگا!”
مگر شمیم نے کبھی مشق نہیں کی تھی۔ سہیلیاں روز شام کو صحن میں ناچ کی تیاری کرتیں اور اسے بھی بلاتیں، لیکن وہ ہنس کر کہتی، "مجھے تیاری کی کیا ضرورت؟ میں تو پیدائشی ماہر ہوں۔”

میلے کا دن آیا۔ ڈھول بجا اور شمیم نئے کپڑے پہن کر بڑے صحن کے بیچ آئی۔ مگر جیسے ہی اس نے ناچنا شروع کیا، اس کے قدم تال سے نہ ملے۔ کبھی وہ لڑکھڑاتی، کبھی ہاتھ اور پاؤں الگ الگ سمت جاتے۔ لوگ ہنسی روکنے لگے۔
شرمندگی چھپانے کے لیے شمیم رک گئی اور زور سے بولی، "یہ آنگن ہی ٹیڑھا ہے! اس اونچے نیچے فرش پر کوئی کیسے ناچ سکتا ہے؟”
اتنے میں اس کی سہیلی زینب اسی صحن میں آئی اور ڈھول کی تال پر ایسا خوبصورت ناچ دکھایا کہ سب تالیاں بجانے لگے۔ گاؤں کی بزرگ خاتون اماں جیواں نے مسکرا کر کہا، "بیٹی، ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا! آنگن تو وہی ہے، فرق صرف مشق کا ہے۔” شمیم نے سر جھکا لیا اور اگلے سال کے میلے کے لیے روز مشق کرنے کا وعدہ کیا۔
Nach Na Jane Angan Tedha — Story in English
Shamim boasted that she would win the dance prize at the village Baisakhi fair, but she never practised. On the day of the fair her steps did not match the drumbeat, and to hide her embarrassment she blamed the courtyard for being uneven. Her friend Zainab then danced beautifully on the very same floor. An elder smiled and said, “Naach na jaane, aangan terha” — the floor was fine; only practice was missing. Moral: don’t blame circumstances for your own weakness.
مزید محاوروں کی کہانیاں
- جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے
- نیکی کر دریا میں ڈال
- کھودا پہاڑ نکلا چوہا
- بندر کیا جانے ادرک کا سواد
- تمام محاوروں کی کہانیاں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب ہے کہ جو شخص خود کوئی کام ٹھیک سے نہیں کر پاتا، وہ اپنی کمی ماننے کے بجائے حالات یا دوسروں پر الزام لگاتا ہے۔
Nach na jane angan tedha meaning in English?
A bad workman blames his tools — someone who cannot do a job blames the circumstances instead of himself.
اس محاورے کو جملے میں کیسے استعمال کریں؟
مثال: تیاری کی نہیں اور اب کہتے ہو پرچہ مشکل تھا، ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔
اس جیسا انگریزی محاورہ کون سا ہے؟
A bad workman always blames his tools.
