آج پہلے مسلمان ہونے والے مرد، حضرت امام علی علیہ السلام کا یوم شہادت ہے. قرآن اہل بیت یا آل محمد سے پیار، محبت اور حُب رکھنے کیلئے کیا فرمان جاری کرتا ہے؟ آئیں اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔
حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ مسلمان مردوں میں سب سے پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ جنگ کے ہر معرکہ میں حضور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بطور چیف سیکورٹی آفیسر موجود رہتے تھے، یہاں تک کہ کچھ معرکوں میں چند مسلمانوں نے شرکت سے معزولی ظاہر کی تو پھر بھی آپ حضورﷺ کے ساتھ ہی موجود رہے۔۔۔
مسلمانوں کا ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے بعد اپنا کوئی جانشین، خلیفہ، یا سربراہ مملکت مقرر نہیں کیا، جبکہ اہل ایمان اور آل محمد اہل بیت کا کہنا ہے کہ غدیر خم کے مقام پر علی بن ابی طالب کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے بعد معمالات زندگی آگے لے جانے کیلئے خلیفہ یا جانشین یا خاندان کا سرپرست نامزد کر دیا تھا۔ آپ اس کو جو مرضی نام دے لیں۔۔۔ اور ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ لوگوں آل محمد سے محبت رکھیں۔

ان چیزوں پر اختلاف بدستور موجود ہے اور ہر ایک کے پاس بڑی بڑی دلیلیں ہیں اپنا نقطہ نظر کو ثابت کرنے کیلئے۔۔۔۔ لیکن ہم زرا وکھری ٹائپ کے مسلمان ہیں، ہم کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے جو فرما دیا، بس فرما دیا، ہمیں بغیر چوں چراں کئیے ان کی بات پر بغیر دلیل عمل کرنا ہے۔۔۔۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہی ہونگے کہ ہم اہل تشیع نہیں، لیکن اس کے باوجود آل محمد کی کسی بات پر کبھی کوئی نہ نہیں کہی، کوئی چوں چراں، یا یہ وہ باتیں ہم نہیں کرتے اور اہل بیت ، آل محمد کا ادب و احترام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ لوگ ہمیں اہل تشیع سمجھتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ حضرت علی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ سب کے ہیں۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد کس صحابی کا کیا رویہ رہا، یہ سب روایات ہیں، صحیح بھی ہوسکتی ہیں اور گھڑی ہوئی کہانیاں بھی ہوسکتی ہیں، جیسے آج کل یہ بات بڑی وائرل ہورہی ہے کہ حضورﷺ پر پہلی وحی والی راویت غار حرا والی سب گھڑی ہوئی کہانی ہے، اس کا حقیقت سے بالکل تعلق نہیں۔ لیکن ہمیں تو یہ روایت بچپن سے ہر کتاب میں پڑھائی گئی ہے اور اس پر امتحان میں سوال بھی آتے تھے۔ اب ہماری پوزیشن یہ ہے کہ نہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ راویت غلط ہے اور نہ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ یہ کہیں کہ یہ راویت صحیح ہے۔۔۔۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتا۔۔۔۔ کیونکہ ہم وہاں موجود نہیں تھے کہ اصل واقعہ یا راویت کیا ہے۔۔۔۔۔
اس لئے ہم سب کو اس زمانے میں خوامخواہ شیعہ یا سُنی یا اور کسی مکتبہ فکر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث یا نقوی جعفری مکتبہ فکر یا فرقے کے دلائل کو سچ یا جھوٹ ثابت کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ کل یہی لوگ کہتے تھے کہ غارحرا کا واقعہ اس طرح ہوا تھا، اور اب کہتے ہیں کہ ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں۔۔۔۔ اب بندہ جائے تو کدھر جائے۔۔۔۔ اس لئے ہم تو لڑتے نہیں ہیں، اور نہ اس پر بحث کرتے ہیں۔۔۔۔ ہم کہتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ نے اگر نہ بھی کہا ہوتا کہ میری آل سے محبت کرنا، پھر بھی آج کے دور کے جو ہم سادہ ترین مسلمان ہیں، ہمیں بغیر دلیلوں سے آل محمد یا اہل بیت سے ہمیں مودت یعنی محبت کرنی چاہے۔۔۔۔
کیونکہ قرآن کے ہی فرمودات ہیں۔
اللہ پاک قرآن پاک سورہ بقرہ آیت 195۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ (ترجمہ شروع) بیشک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے (ترجمہ ختم)
تشریح۔ اب آپ ہی بتائیں، کیا آپ کو اہل بیت یا آل محمد سے محبت رکھنے کیلئے کسی اور حکم کی ضرورت ہے؟ یہ قرآن میں لکھا ہے، ہم نے کوئی حدیث بیان نہیں کی۔۔۔۔ اسی طرح لکھا ہے کہ
سورہ آل عمران 159۔ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْن (ترجمہ شروع) بے شک اللہ توکل کرنے والے لوگوں کو پسند کرتا ہے(ترجمہ ختم)
تشریح۔ اب توکل کرنے والے بھی کوئی بھی ہوسکتے ہیں، پر اہل بیت یا آل محمد بھی تو توکل کرنے والے تھے۔۔۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ
سورہ بقرہ آیت 222۔ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (ترجمہ شروع) بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے(ترجمہ ختم)
تشریح۔ اب یہ پاک لوگ کون ہیں؟ وہ بھی قرآن سے ہی پڑھ لیں۔ پاک لوگ نبیﷺ کے گھر والے ہیں۔ قرآن میں لکھا ہے کہ
سورہ الاحزاب 33۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ (ترجمہ شروع) اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی (ﷺ) کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے(ترجمہ ختم)
آپ ہی بتائیں، اس کے بعد بھی اگر چند لوگ نفرت رکھتے ہیں، یا عداوت رکھیں تو پھران کو اللہ ہی سمجھائے تو سمجھائے ہم نہیں سمجھا سکتے۔۔۔۔ سورہ الاحزاب کی آیت آل محمد یا اہل بیت کو سپورٹ بھی کرتی ہے۔۔۔۔
Quranic Injunction to Love Ahl al-Bayt
