Urdu Proverb “نیکی کر دریا میں ڈال” | Do good and forget about it

کہاوت: “نیکی کر دریا میں ڈال” کی حقیقی کہانی:
کہاوت “نیکی کر دریا میں ڈال” کے پیچھے ایک پرانی حکایت ہے جو لوگوں کو اس بات کی نصیحت کرتی ہے کہ نیکی کر کے اسے بھول جانا چاہیے اور بدلے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
کہانی:
ایک بار ایک نیک دل شخص ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرتا اور لوگوں کی مشکلات کو دور کرتا، لیکن وہ کبھی کسی سے اس کا بدلہ یا شکریہ نہیں مانگتا تھا۔ ایک دن، اس نیک شخص نے ایک غریب مسافر کو دیکھا جو بھوک سے نڈھال تھا۔ اُس شخص نے مسافر کو کھانا دیا اور اُس کی مدد کی۔
بعد میں، کسی نے اُس سے پوچھا کہ تم اتنی نیکیاں کرتے ہو، کیا تمہیں نہیں لگتا کہ لوگوں کو تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہیے؟ نیک شخص نے مسکراتے ہوئے کہا، “نیکی کرو اور اسے دریا میں ڈال دو۔” یعنی نیکی کر کے اسے بھول جاؤ، اور اس کی واپسی کی امید نہ رکھو۔
کچھ عرصے بعد وہی غریب مسافر ایک کامیاب تاجر بن گیا اور نیک شخص کی مدد کی یاد میں واپس آیا۔ اُس نے کہا کہ اُس کی نیکی کا بدلہ دینے آیا ہوں، لیکن نیک شخص نے جواب دیا، “میں نیکی کو دریا میں ڈال چکا ہوں، اب میں اس کا بدلہ نہیں چاہتا۔”
اس کہانی کا مطلب یہ ہے کہ نیکی بے لوث ہو کر کرنی چاہیے اور بدلے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ جو نیکی انسان کرتا ہے، وہ کسی نہ کسی طرح واپس آتی ہے، لیکن اس پر نظر رکھنا ضروری نہیں۔

نیکی کر دریا میں ڈال

Urdu Proverb “نیکی کر دریا میں ڈال” | Do good and forget about it