“اونٹ کے منہ میں زیرہ”
یہ کہاوت “اونٹ کے منہ میں زیرہ” اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی بڑی ضرورت کے سامنے بہت کم چیز پیش کی جائے۔ اس کی کہانی کچھ اس طرح ہے:
ایک بار ایک آدمی کے پاس اونٹ تھا جو بہت زیادہ خوراک کھاتا تھا۔ ایک دن آدمی کے پاس اونٹ کے کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا، سوائے تھوڑی سی زیرہ (ایک قسم کا چھوٹا بیج) کے۔ اس نے سوچا کہ وہ زیرہ اونٹ کو کھلا دے گا تاکہ وہ کچھ کھا لے۔
جب اونٹ نے زیرہ اپنے منہ میں لیا، تو اسے کچھ بھی محسوس نہ ہوا کیونکہ اونٹ کا منہ بہت بڑا تھا اور زیرہ بہت کم۔ اونٹ کو محسوس ہوا کہ جیسے کچھ کھایا ہی نہ ہو۔ آدمی نے کوشش تو کی تھی کہ کچھ کھانے کو دے، مگر اونٹ کی ضرورت کے حساب سے زیرہ بہت ناکافی تھا۔
اسی وجہ سے یہ کہاوت استعمال ہوتی ہے جب کسی بڑے مسئلے یا ضرورت کے سامنے بہت کم چیز فراہم کی جائے، جو کہ بالکل ناکافی ہو

A small thing in comparison to a large need. “اونٹ کے منہ میں زیرہ“
