بنام گمنام
اے میرے یار تیری یاد بہت آتی ہے
سانس لینے کی بھی فرصت نہ یہ بچاتے ہے
محبتیں تیری اب جان پہ بن آتی ہیں
اک تیرے نام پہ یہ سانس اکھڑجاتی ہے
عشق کے راستے ہیں یار خار زار بہت
یاد تیری مگر انہیں پہ اب بلاتی ہے
لے کے اب نام تیرا دل کو تھام لیتا ہوں
اب تو اکثرہی مجھے نیند بھی کم آتی ہے
سیکھ آیا ہوں ایک یار سے اب الفت میں
مجھے اب عشق کی ہر ایک چال بھاتی ہے
اس طرح دل میں تیرا ورد میں کرتا ہوں صنم
عقل بھی جان جاں اب تیرے ہی گن گاتی ہے
یا خضر عشق کو میرے ابھی قبول کرو
لاو ورنہ کوئی دوا کہ یاد آتی ہے۔
Urdu Poem by Muhammad Khizar Hayat Khizar
