اے حبیب خدا ہو کرم کی نگاہ
عرض کرتا ہے یہ اِک ادنیٰ گدا
میرے دل کی تمنا یہ پوری کرو
حکم ہو کہ مدینے کی جانب چلو
میرا دامن ہے خالی اسے بھی بھرو
چاہتا ہوں تجھ سے میں تیری عطا
مشکلوں نے ہے آکے گھیرا مجھے
راحت کا دکھا دے سویرا مجھے
سب ہی بولیں دیوانہ تیرا مجھے
اپنی الفت کا یوں مجھ پہ رنگ چڑھا
میری قسمت میں شامل ہو تیرا پیار
ہو مقّدر میں آنکھوں کو تیرا دیدار
یوں نصیبوں کو میرے دے تو سنوار
سن لے ہردم لبوں پہ جو جاری صدا
اِن جہاں کے غموں سے تو کر آزاد
بن تیرے کہاں جا کروں فریاد
دل ویراں کو یوں کر دے آباد
تیری الفت کے بن نہ ہو یہ فدا
موت میری جو آئے تو ہو تیرا در
تیرے روضے پہ میری لگی ہو نظر
میرے ہونٹوں پہ بھی ہو تیرا ذکر
یوں مجھ پہ کرم کی کرو انتہا
حشر میں بھی غلاموں میں کرنا شمار
اپنے کیے گناہ پہ نہ جاؤں میں نار
نیّیا جاوید کی تو لگا دے پار
صدقے حسنین کے سن میری التجا
(New Poetry by Javed)
