نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی
ایک گاؤں میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا جا رہا تھا، اور سب نے مشورہ کیا کہ تہوار کی رونق بڑھانے کے لئے مشہور رقاصہ “رادھا” کو بلایا جائے۔ رادھا اپنے خوبصورت رقص اور انداز کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھی، لیکن وہ خود اس تقریب میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔
جب گاؤں والوں نے رادھا سے تقریب میں ناچنے کی درخواست کی تو اس نے جان بوجھ کر ایک سخت شرط رکھی تاکہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں۔ اس نے کہا:
“میں تبھی ناچوں گی جب آپ لوگ نو من (تقریباً 320 کلوگرام) تیل اکٹھا کریں گے تاکہ چراغ جلائے جا سکیں۔”
گاؤں والے اس شرط پر حیران رہ گئے کیونکہ اتنا زیادہ تیل اکٹھا کرنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کئی بار رادھا کو منانے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنی شرط پر قائم رہی۔ آخرکار، گاؤں والوں نے ہار مان لی اور رادھا کو تقریب میں شامل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
مقصد
یہ کہانی ان حالات کی عکاسی کرتی ہے جہاں لوگ کسی کام یا ذمہ داری سے بچنے کے لئے سخت یا ناممکن شرائط عائد کر دیتے ہیں۔ کہاوت “نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی” اسی رویے کو ظاہر کرتی ہے کہ جب کسی کو کام نہ کرنا ہو تو وہ خود کو مشکل شرائط کے ذریعے بری الذمہ کر لیتا ہے۔

نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی | The story is based on a Urdu Proverb.
