غائب ہوتی کتابیں — شاہ جی کی ہوشیار تفتیش – The disappearing book

غائب ہوتی کتابیں — شاہ جی کی ہوشیار تفتیش

شہر کے مشہور تعلیمی ادارے میں پچھلے کچھ ہفتوں سے ایک عجیب و غریب مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔ اسکول کی لائبریری سے ہر ہفتے ایک نایاب اور قیمتی کتاب غائب ہو جاتی تھی۔ یہ کتابیں نہ صرف بہت پرانی تھیں بلکہ تاریخی اہمیت بھی رکھتی تھیں، جن پر اسکول کو بے حد فخر تھا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ لائبریری ہمیشہ تالے میں بند رہتی، کھڑکیاں محفوظ ہوتیں اور کہیں زبردستی داخل ہونے کا کوئی نشان نہ ملتا۔ لائبریرین، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ سب پریشان تھے کہ آخر یہ کتابیں کہاں جا رہی ہیں۔

شروع میں سب نے اسے محض اتفاق سمجھا، مگر جب یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا تو معاملہ سنگین ہو گیا۔ آخرکار اسکول کے پرنسپل نے شہر کے مشہور جاسوس شاہ جی سے رابطہ کیا، جو اپنی ذہانت اور سچائی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

شاہ جی نے اسکول پہنچ کر سب سے پہلے لائبریری کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے کتابوں کی الماریاں، فرش، دروازوں کے تالے اور حتیٰ کہ چھت کے کونوں تک کو غور سے دیکھا۔ ان کی تیز نظریں ہر چھوٹی بڑی بات پر تھیں۔

شاہ جی نے پرنسپل سے سوال کیا، “کیا کسی طالب علم کو ان کتابوں میں غیر معمولی دلچسپی رہی ہے؟”

پرنسپل نے کچھ سوچ کر جواب دیا، “آصف نامی ایک طالب علم اکثر لائبریری میں بیٹھ کر پرانی کتابیں پڑھتا ہے، مگر وہ بہت محنتی اور ایماندار لڑکا ہے۔”

شاہ جی نے دو دن کی مہلت مانگی اور کہا کہ وہ خود رات کے وقت لائبریری میں نگرانی کریں گے۔ اگلی رات وہ خاموشی سے لائبریری میں داخل ہوئے اور ایک بڑی الماری کے پیچھے چھپ گئے۔

آدھی رات کے قریب دروازہ آہستہ سے کھلا۔ ایک طالب علم دبے قدموں اندر آیا۔ شاہ جی نے غور سے دیکھا تو وہ آصف تھا۔ آصف سیدھا ایک مخصوص شیلف کے پاس گیا، ایک کتاب نکالی اور فرش کے ایک حصے کو ہٹا دیا۔

فرش کے نیچے ایک خفیہ خانہ تھا۔ آصف نے کتاب وہاں رکھ دی اور جیسے ہی پلٹا، شاہ جی اس کے سامنے آ گئے۔

شاہ جی نے نرمی سے کہا، “ڈرنے کی ضرورت نہیں، مجھے سچ بتاؤ۔”

آصف گھبراہٹ کے ساتھ بولا، “سر! میں چوری نہیں کر رہا۔ میں ان کتابوں کو بچا رہا ہوں۔”

آصف نے بتایا کہ اس نے اتفاقاً پرنسپل اور ایک پرانے کتابوں کے تاجر کی گفتگو سن لی تھی، جن میں ان نایاب کتابوں کو فروخت کرنے کی بات ہو رہی تھی۔ آصف کو ڈر تھا کہ اگر وہ کسی کو بتائے گا تو شاید کوئی اس کی بات پر یقین نہ کرے، اس لیے اس نے کتابوں کو چھپا کر محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا۔

شاہ جی آصف کی بات سمجھ گئے۔ اگلے دن انہوں نے اسکول انتظامیہ کے سامنے تمام حقیقت رکھ دی۔ تحقیقات کی گئیں اور جلد ہی شواہد مل گئے کہ واقعی کتابوں کو غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

قصورواروں کے خلاف کارروائی ہوئی اور نایاب کتابیں دوبارہ لائبریری میں محفوظ کر دی گئیں۔ آصف کو اس کی ایمانداری اور بہادری پر تعریفی سند اور انعام دیا گیا۔

شاہ جی نے آصف سے کہا، “بیٹا! سچ اور امانت کی حفاظت کرنا ہی اصل بہادری ہے۔”

کہانی سے سبق

سچ بولنے اور صحیح کام کرنے والا، چاہے چھوٹا طالب علم ہی کیوں نہ ہو، آخرکار کامیاب اور سرخرو ہوتا ہے۔


kahani
غائب ہوتی کتابیں