تیری نعتیں نہ سناؤں یہ ہو نہیں سکتا
تیری محفل نہ سجاؤں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
تیرے ذکر سے سجائے رب نے تیس پارے
تیری بات جو ہیں کرتے رب کو وہی پیارے
تو نہ تیری بات بتاؤں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
تیری دیوانگی میں یہ دل رہے دیوانہ
کسی اور کی محبت سے دل رہے بیگانہ
تجھ بن کوئی اور چاہوں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
کہتے ہیں لوگ اکثر ہم تو ہیں خود کماتے
دیوانے تیرے تو تیرا صدقہ ہی کھاتے
کسی اور کا میں کھاؤں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
تیری ہی چاہت میں سارا ہی ایماں ہے
تیری ہی پیروی تو بخشش کا جہاں ہے
پھر اور کوئی اپناؤں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
کیا سوال مجھ سے فرشتوں نے قبر میں
کس کا تھا نام لیتے تم شام و سحر میں
تیرا نام پھر چھپاؤں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
آیا جو تیرے در پہ لوٹا نہ وہ خالی
ادنی سا سمجھ کے مجھ کو بھی سوالی
اب خالی لوٹ جاؤں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
قابل تو نہیں میں بس ہیں التجائیں
آنکھوں کے آنگن میں جو تشریف لائیں
پلکیں نہ جاوید بچھاؤں یہ ہو نہیں سکتا
اے حبیب خدا اے حبیب خدا
Beautiful Naat written by Javed
