ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جو بہت امیر اور طاقتور تھا، مگر اس کے دل میں سکون نہ تھا۔ وہ ہر روز نئے نئے خزانے جمع کرتا، سونے کے تاج اور ہیرے جواہرات پہنتا مگر پھر بھی خوش نہ ہوتا۔ اس نے اپنی رعایا سے پوچھا، “آخر خوشی کہاں ملتی ہے؟”
کسی نے کہا: “بادشاہ سلامت، اگر آپ کا محل دنیا کا سب سے اونچا ہو جائے تو خوشی ملے گی۔” کسی نے کہا: “اگر آپ کا خزانہ بھر جائے تو خوش ہوں گے۔” بادشاہ نے سب کچھ آزمایا، مگر سکون پھر بھی نہ ملا۔
ایک دن بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو بھی اسے سچی خوشی کا راز بتائے گا، اسے انعام دیا جائے گا۔ گاؤں کا ایک غریب کسان آیا اور بولا: “بادشاہ سلامت! خوشی دوسروں کو خوش کرنے میں ہے، خزانے جمع کرنے میں نہیں۔ جب میں ہر صبح اپنی بیوی اور بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتا ہوں، تو مجھے حقیقی خوشی ملتی ہے۔”
بادشاہ کو اس کی بات دل سے لگی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ رعایا کی مدد کرے گا، یتیموں کے لیے گھر بنوائے گا، غریبوں کو کھانا دے گا۔ جب اس نے یہ سب کیا تو پہلی بار اس کے دل کو سکون ملا اور چہرے پر حقیقی مسکراہٹ آگئی۔
اب بادشاہ اپنی رعایا میں مشہور تھا، لوگ اسے محبت سے یاد کرتے اور دعا دیتے تھے۔ بادشاہ کو سمجھ آ گیا کہ اصل خوشی دوسروں کی خدمت میں ہے۔
کہانی سے سبق:
اصل خوشی دوسروں کو خوش کرنے اور ان کی مدد کرنے میں ہے، دولت اور خزانہ کبھی دل کو سکون نہیں دے سکتے۔

