کہاوت کی حقیقی کہانی: “بندر کیا جانے ادرک کا سواد” | A fool does not appreciate fine thingsیہ کہاوت اس صورتحال کو بیان کرتی ہے جہاں ایک شخص یا کوئی جاندار کسی قیمتی چیز یا اس کے فائدے کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتا۔ اس کہاوت کے پیچھے ایک پرانی حکایت بیان کی جاتی ہے:ایک دن ایک شخص جنگل میں جا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوکری تھی جس میں ادرک رکھی ہوئی تھی۔ جب وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھا، تو ایک بندر اس کے پاس آیا۔ بندر کو دیکھ کر اس شخص نے سوچا کہ بندر کو بھی ادرک کا مزہ چکھا دے۔اس نے ادرک کا ایک ٹکڑا بندر کو دیا۔ بندر نے ادرک کا ٹکڑا منہ میں ڈالا، لیکن چونکہ ادرک تیز اور کڑوی ہوتی ہے، بندر کو اس کا ذائقہ بالکل بھی پسند نہیں آیا۔ وہ فوراً اسے تھوک دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بیکار چیز ہے۔اصل میں، بندر یہ نہیں جانتا تھا کہ ادرک ایک نہایت قیمتی اور صحت مند چیز ہے جو انسانوں کے لیے کئی فوائد رکھتی ہے، خاص طور پر کھانے میں ذائقہ بڑھانے کے لیے۔اسی لیے کہاوت مشہور ہو گئی: “بندر کیا جانے ادرک کا سواد” یعنی جو شخص عقل یا سمجھ نہیں رکھتا، وہ قیمتی یا فائدے مند چیزوں کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتا۔

A fool does not appreciate fine things
