The Journey of Grief | سفرِ غمِ حیات
میں رو پڑا کہ یاد جب آیا پرانا وہ
میں رو پڑا بنا کیوں ہنسی کا بہانہ وہ
وہ ہنس پڑی یہ دیکھ کر کہ رو پڑا ہوں میں
وہ ہنس پڑی کہ عشق سے ہی کیوں لڑا ہوں میں
اشکوں نے میرے چہرہ میرا ڈھانپ لیا جب
اور ہنسی اس کی رکی جب کہ سانس لیا جب
رستے کو اپنے چل پڑا میں لے کے چشم تر
وہ چل پڑی کہ ہنس لیا تو جایا جائے گھر
میں بے رخی کے زخم کا مارا نہیں رکا
وہ بھی نہیں رکی کہ اسے عاشقوں سے کیا
میں بھی نہ مڑ کے دیکھ سکا اس کے نقش پا
وہ بھی نہیں مڑی کہ وہ تو ہے ہی دلربا
چلتا گیا میں شہر سے نکل گیا کہیں
وہ جا کے ایسے سو گئی کہ فکر ہی نہیں
پھر رات ایسے چھائی مچھ پہ کہ میں مر گیا
اس کو خیال بھی نہ رہا میں کدھر گیا
پھر صبح کو اس نے جاگ کے اعلان یہ سنا
شاعر تھا ایک شہر میں ہے جو کہ کھوگیا
وہ آج بھی میری تلاش میں ہے گم مگر
میں دنیا گھوم رہا شاعروں کا ہوں خضر
New Urdu Poetry by Muhammad Khizar Hayat Khizar
