Urdu Poem by Muhammad Khizar Hayat Khizar
آخری شعر بتانے کے کیلئے
آج پھر شاعری کی ڈور پکر بیٹھا ہوں
آج پھر دور کے سازوں سے جھگڑبیٹھا ہوں
کون سنتا ہے میری شاعری کو نالوں کو
کون مانے گا میرے عشق کے حوالوں کو
میں ہوں مجبور کہ میں عا شقی کا قیدی ہوں
بندھا ہوں غم میں ہوں میں عام ہی سا قیدی ہوں
کسی کی یاد میں کھویا ہوں بہت رویا ہوں
دیں نہیں یاد میں غفلت کی نیںد سویا ہوں
بے حیا جفا کش کے نام سے مشہور ہوں میں
اپنے محبوب کے سپنے کو بھی ناسور ہوں میں
ہے وہ صنم میں بت تراش کہ میں عاسق ہوں
گلی سڑی ہے میری لاش کہ میں عاشق ہوں
میں روز رات ہی آنکھیں میری بھگوتا ہوں
وہ جب بھی یا د آتا ہے میں بہت روتا ہوں
مجھے تو رات کو بھی نیںد نہیں آتی ہے
جدائی اس کی مجھے زخم سی ستاتی ہے
میں اسے یاد بھی آوٗں تو خفا ہوتا ہے
وہ مگر خود میری آنکھوں میں سرا ہوتا ہے
وہ میرا یار ہے محبوب بہت ہے مجھ کو
اس کا شیدائی ہوں مطلوب بہت ہے مجھ کو
وہ میرے جینے کی وجہ ہے زندگانی ہے
وہ میری جان بھی سانسوں کی بھی روانی ہے
بس ایک شعرآ خری یہ ذمانے کے لیے
کتنی چاہت ہے مجھ میں سب کو بتانے کے لیے
بھلے ہی جاں پہ میری ظلم کئ کر لے مگر
میری الفت کا تو محور سدا رہے گا خضر
