محاورے کا مطلب
اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو (یا "جتنی چادر دیکھو، اتنے پاؤں پھیلاؤ”) کا لفظی مطلب ہے کہ سردی میں چادر جتنی لمبی ہو، پاؤں بھی اتنے ہی پھیلاؤ، ورنہ پاؤں باہر رہ جائیں گے اور ٹھنڈ لگے گی۔ مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنی آمدنی، وسائل اور حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ گنجائش سے زیادہ خرچ، دکھاوا اور قرض آخرکار پریشانی لاتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں بھی میانہ روی کا حکم ہے: "اور نہ اپنا ہاتھ گردن سے باندھ کر رکھو اور نہ اسے بالکل کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور تہی دست ہو کر بیٹھ جاؤ” (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 29)۔
| زبان | محاورہ | مفہوم |
|---|---|---|
| اردو | اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو | آمدنی کے مطابق خرچ |
| Roman Urdu | Itne paon phailao jitni chadar ho | — |
| English | Cut your coat according to your cloth | Live within your means |
| الٹی صورت | آمدنی اٹھنی، خرچہ روپیہ | کم آمدنی، زیادہ خرچ |
جملوں میں استعمال
- بیٹے کی شادی پر قرض لے کر دعوت کرنا ٹھیک نہیں؛ اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو۔
- تنخواہ تیس ہزار ہے اور موبائل ڈیڑھ لاکھ کا چاہیے؟ بھائی، اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو۔
- امی ہمیشہ بجٹ بنا کر خرچ کرتی ہیں، کہتی ہیں: جتنی چادر دیکھو، اتنے پاؤں پھیلاؤ۔
کہانی: دو بھائی اور شادی کی دعوت
ایک قصبے میں دو بھائی، اکرم اور اسلم، کپڑے کی ایک ہی دکان چلاتے تھے۔ دونوں کی آمدنی برابر تھی۔ اکرم سادہ مزاج تھا؛ ہر مہینے کچھ رقم بچا کر رکھتا اور گھر کا خرچ سوچ سمجھ کر کرتا۔ اسلم کو دکھاوے کا شوق تھا؛ نئے کپڑے، نیا فون اور دوستوں کی دعوتیں اس کے روز کے معمول تھے۔
ایک ہی سال دونوں کی بیٹیوں کی شادی طے ہوئی۔ اکرم نے اپنی بچت کے مطابق سادہ مگر باوقار انتظام کیا: گھر کے صحن میں قناتیں، محلے کے باورچی کا کھانا اور قریبی رشتہ دار۔ اسلم نے کہا، "لوگ کیا کہیں گے؟ شادی تو شہر کے سب سے بڑے ہال میں ہوگی!” اس نے بینک اور ساہوکار دونوں سے قرض لیا اور تین دن کی شاندار تقریبات کیں۔
شادی کے دن لوگوں نے اسلم کی دعوت کی خوب تعریف کی۔ مگر چند مہینے بعد ساہوکار دکان پر آنے لگا۔ سود بڑھتا گیا، دکان کا مال کم ہوتا گیا، اور آخرکار اسلم کو اپنا حصہ گروی رکھنا پڑا۔ اب وہ رات کو سو نہیں پاتا تھا۔
ایک شام وہ بہت پریشان ہو کر اکرم کے پاس آیا۔ اکرم نے اپنی بچت سے کچھ قرض اتارنے میں مدد کی، پھر سردیوں کی ایک چادر اٹھا کر بھائی کو دکھائی۔ "اسلم، یہ چادر چھوٹی ہے۔ اگر میں اس میں پورے پاؤں پھیلاؤں گا تو پاؤں باہر رہ جائیں گے اور ٹھنڈ لگے گی۔ ہماری آمدنی بھی یہی چادر ہے۔ اتنے ہی پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو۔”
اسلم نے سر جھکا لیا۔ اس دن کے بعد اس نے دکھاوا چھوڑ دیا، ہر مہینے کا حساب لکھنا شروع کیا اور تھوڑی تھوڑی بچت کرنے لگا۔ دو سال میں اس کا قرض اتر گیا، اور دونوں بھائی پھر سے مل کر سکون سے دکان چلانے لگے۔
Itne Paon Phailao Jitni Chadar Ho — Story in English
Two brothers, Akram and Aslam, earned the same from their cloth shop. Akram lived simply and saved; Aslam loved showing off. When both married off their daughters, Akram held a modest wedding at home, while Aslam borrowed from a bank and a moneylender for a lavish three-day affair. Within months the debt and interest pushed Aslam to mortgage his share of the shop. Akram helped him and showed him a short winter shawl: stretch your feet only as far as your sheet allows. Aslam learned to budget and cleared his debt in two years. Moral: live within your means.
مزید محاوروں کی کہانیاں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو کا مطلب کیا ہے؟
اپنی آمدنی اور حیثیت کے مطابق خرچ کرو؛ اپنی گنجائش سے زیادہ خرچ کرنا یا دکھاوا کرنا آخر میں نقصان دیتا ہے۔
Itne paon phailao jitni chadar ho meaning in English?
Cut your coat according to your cloth — live within your means and don’t spend more than you earn.
اس محاورے کو جملے میں کیسے استعمال کریں؟
مثال: قرض لے کر مہنگی گاڑی خریدنا عقل مندی نہیں، اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی چادر ہو۔
اس سے ملتا جلتا محاورہ کون سا ہے؟
"آمدنی اٹھنی، خرچہ روپیہ” اس کی الٹی صورت بیان کرتا ہے، یعنی آمدنی کم اور خرچ زیادہ۔
