لب پہ آتی ہے دعا: مکمل نظم اور تشریح | Lab Pe Aati Hai Dua Tashreeh

پڑھنے کا وقت: 6 منٹ
مختصر خلاصہ: "لب پہ آتی ہے دعا” علامہ اقبال کی مشہور نظم "بچے کی دعا” ہے جو پاکستان کے اسکولوں میں صبح کی اسمبلی میں پڑھی جاتی ہے۔ نیچے نظم کا مکمل متن، ہر شعر کی آسان تشریح، مشکل الفاظ کے معنی، مرکزی خیال اور امتحانی سوالات دیے گئے ہیں۔

شاعر: علامہ محمد اقبال  |  مجموعہ: بانگِ درا  |  اشعار: 6

نظم: بچے کی دعا (مکمل متن)

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

ہر شعر کی تشریح

شعر 1

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

تشریح: بچہ کہتا ہے کہ میری دلی خواہش دعا بن کر ہونٹوں پر آ جاتی ہے: اے اللہ! میری زندگی شمع (موم بتی) کی طرح ہو۔ شمع خود جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے؛ یعنی میری زندگی دوسروں کے فائدے کے لیے وقف ہو۔

شعر 2

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

تشریح: میرے وجود سے دنیا کی تاریکی، یعنی جہالت اور برائی، دور ہو جائے اور میں جہاں بھی جاؤں علم اور نیکی کی روشنی پھیلاؤں۔

شعر 3

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

تشریح: جیسے پھول باغ کی خوبصورتی بڑھاتا ہے، ویسے ہی میں اپنے اچھے کردار اور کاموں سے اپنے وطن کی عزت اور خوبصورتی کا سبب بنوں۔

شعر 4

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

تشریح: پروانہ شمع پر قربان ہو جاتا ہے۔ بچہ دعا کرتا ہے کہ مجھے علم سے ویسی ہی سچی محبت ہو جیسی پروانے کو شمع سے ہوتی ہے۔

شعر 5

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

تشریح: میری زندگی کا مقصد غریبوں کا ساتھ دینا اور دکھی اور کمزور لوگوں سے محبت اور ہمدردی کرنا ہو۔

شعر 6

مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

تشریح: آخر میں بچہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ مجھے ہر برائی سے محفوظ رکھ اور ہمیشہ نیکی کے سیدھے راستے پر چلا۔

مرکزی خیال

اس نظم میں علامہ اقبال نے ایک بچے کی زبان سے ایک مثالی انسان کی خواہشات بیان کی ہیں۔ بچہ اپنی ذات کے لیے دولت یا شہرت نہیں مانگتا بلکہ دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی شمع کی طرح دوسروں کو روشنی دے، اسے علم سے سچی محبت ہو، وہ اپنے وطن کی زینت بنے، غریبوں اور کمزوروں کا ساتھ دے اور ہمیشہ برائی سے بچ کر نیکی کے راستے پر چلے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظم آج بھی بچوں کی تربیت کے لیے صبح کی اسمبلی میں پڑھی جاتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنیEnglish
لبہونٹlips
تمناخواہشwish
شمعموم بتیcandle
دموجود، ذاتbeing, self
اجالاروشنیlight
زینتخوبصورتی، سجاوٹbeauty, adornment
چمنباغgarden
پروانہوہ پتنگا جو شمع پر جان دیتا ہےmoth
حمایتمدد، ساتھ دیناsupport
درد منددکھی، تکلیف میںthe suffering
ضعیفکمزور، بوڑھاthe weak
رہراستہpath

امتحانی سوالات

  1. یہ نظم کس شاعر کی ہے اور کس مجموعے میں شامل ہے؟
  2. بچہ اپنی زندگی کو کس چیز کی طرح بنانا چاہتا ہے؟
  3. بچہ وطن کی زینت کس طرح بننا چاہتا ہے؟
  4. بچہ کن لوگوں سے محبت کرنا چاہتا ہے؟
  5. نظم کے آخری شعر میں کیا دعا کی گئی ہے؟
جوابات دیکھیں
  1. علامہ محمد اقبال؛ بانگِ درا۔
  2. شمع کی طرح، جو دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔
  3. جس طرح پھول سے باغ کی زینت ہوتی ہے۔
  4. دردمندوں اور کمزوروں (ضعیفوں) سے، اور غریبوں کی حمایت کرنا چاہتا ہے۔
  5. برائی سے بچنے اور نیکی کے راستے پر چلنے کی دعا۔

Lab Pe Aati Hai Dua — Meaning in English

“Lab pe aati hai dua” is Allama Iqbal’s poem “Bachche ki Dua” (A Child’s Prayer) from his collection Bang-e-Dra, recited in morning assemblies across Pakistan. In six couplets the child prays that his life may be like a candle that drives away darkness, that he may adorn his homeland as a flower adorns a garden, love knowledge as a moth loves the flame, stand by the poor and the weak, and be kept away from evil and guided on the right path.

مزید پڑھیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

لب پہ آتی ہے دعا کس کی نظم ہے؟

یہ علامہ محمد اقبال کی نظم "بچے کی دعا” ہے جو ان کے پہلے اردو مجموعے "بانگِ درا” میں شامل ہے۔

لب پہ آتی ہے دعا نظم میں کتنے اشعار ہیں؟

اس نظم میں چھ اشعار ہیں۔

اس نظم کا مرکزی خیال کیا ہے؟

بچہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی شمع کی طرح دوسروں کے لیے روشنی بنے، وہ علم سے محبت کرے، وطن کی زینت بنے، غریبوں اور کمزوروں کا ساتھ دے اور ہمیشہ نیکی کے راستے پر چلے۔

Lab pe aati hai dua meaning in English?

It is Allama Iqbal’s poem “A Child’s Prayer”: the child prays that his life may be like a candle that lights up the world, that he may love knowledge, serve his country, help the poor and weak, and always follow the right path.