شاعر: علامہ محمد اقبال | مجموعہ: بانگِ درا | اشعار: 6
نظم: بچے کی دعا (مکمل متن)
ہر شعر کی تشریح
شعر 1
تشریح: بچہ کہتا ہے کہ میری دلی خواہش دعا بن کر ہونٹوں پر آ جاتی ہے: اے اللہ! میری زندگی شمع (موم بتی) کی طرح ہو۔ شمع خود جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے؛ یعنی میری زندگی دوسروں کے فائدے کے لیے وقف ہو۔
شعر 2
تشریح: میرے وجود سے دنیا کی تاریکی، یعنی جہالت اور برائی، دور ہو جائے اور میں جہاں بھی جاؤں علم اور نیکی کی روشنی پھیلاؤں۔
شعر 3
تشریح: جیسے پھول باغ کی خوبصورتی بڑھاتا ہے، ویسے ہی میں اپنے اچھے کردار اور کاموں سے اپنے وطن کی عزت اور خوبصورتی کا سبب بنوں۔
شعر 4
تشریح: پروانہ شمع پر قربان ہو جاتا ہے۔ بچہ دعا کرتا ہے کہ مجھے علم سے ویسی ہی سچی محبت ہو جیسی پروانے کو شمع سے ہوتی ہے۔
شعر 5
تشریح: میری زندگی کا مقصد غریبوں کا ساتھ دینا اور دکھی اور کمزور لوگوں سے محبت اور ہمدردی کرنا ہو۔
شعر 6
تشریح: آخر میں بچہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ مجھے ہر برائی سے محفوظ رکھ اور ہمیشہ نیکی کے سیدھے راستے پر چلا۔
مرکزی خیال
اس نظم میں علامہ اقبال نے ایک بچے کی زبان سے ایک مثالی انسان کی خواہشات بیان کی ہیں۔ بچہ اپنی ذات کے لیے دولت یا شہرت نہیں مانگتا بلکہ دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی شمع کی طرح دوسروں کو روشنی دے، اسے علم سے سچی محبت ہو، وہ اپنے وطن کی زینت بنے، غریبوں اور کمزوروں کا ساتھ دے اور ہمیشہ برائی سے بچ کر نیکی کے راستے پر چلے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظم آج بھی بچوں کی تربیت کے لیے صبح کی اسمبلی میں پڑھی جاتی ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی
| لفظ | معنی | English |
|---|---|---|
| لب | ہونٹ | lips |
| تمنا | خواہش | wish |
| شمع | موم بتی | candle |
| دم | وجود، ذات | being, self |
| اجالا | روشنی | light |
| زینت | خوبصورتی، سجاوٹ | beauty, adornment |
| چمن | باغ | garden |
| پروانہ | وہ پتنگا جو شمع پر جان دیتا ہے | moth |
| حمایت | مدد، ساتھ دینا | support |
| درد مند | دکھی، تکلیف میں | the suffering |
| ضعیف | کمزور، بوڑھا | the weak |
| رہ | راستہ | path |
امتحانی سوالات
- یہ نظم کس شاعر کی ہے اور کس مجموعے میں شامل ہے؟
- بچہ اپنی زندگی کو کس چیز کی طرح بنانا چاہتا ہے؟
- بچہ وطن کی زینت کس طرح بننا چاہتا ہے؟
- بچہ کن لوگوں سے محبت کرنا چاہتا ہے؟
- نظم کے آخری شعر میں کیا دعا کی گئی ہے؟
جوابات دیکھیں
- علامہ محمد اقبال؛ بانگِ درا۔
- شمع کی طرح، جو دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔
- جس طرح پھول سے باغ کی زینت ہوتی ہے۔
- دردمندوں اور کمزوروں (ضعیفوں) سے، اور غریبوں کی حمایت کرنا چاہتا ہے۔
- برائی سے بچنے اور نیکی کے راستے پر چلنے کی دعا۔
Lab Pe Aati Hai Dua — Meaning in English
“Lab pe aati hai dua” is Allama Iqbal’s poem “Bachche ki Dua” (A Child’s Prayer) from his collection Bang-e-Dra, recited in morning assemblies across Pakistan. In six couplets the child prays that his life may be like a candle that drives away darkness, that he may adorn his homeland as a flower adorns a garden, love knowledge as a moth loves the flame, stand by the poor and the weak, and be kept away from evil and guided on the right path.
مزید پڑھیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
لب پہ آتی ہے دعا کس کی نظم ہے؟
یہ علامہ محمد اقبال کی نظم "بچے کی دعا” ہے جو ان کے پہلے اردو مجموعے "بانگِ درا” میں شامل ہے۔
لب پہ آتی ہے دعا نظم میں کتنے اشعار ہیں؟
اس نظم میں چھ اشعار ہیں۔
اس نظم کا مرکزی خیال کیا ہے؟
بچہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی شمع کی طرح دوسروں کے لیے روشنی بنے، وہ علم سے محبت کرے، وطن کی زینت بنے، غریبوں اور کمزوروں کا ساتھ دے اور ہمیشہ نیکی کے راستے پر چلے۔
Lab pe aati hai dua meaning in English?
It is Allama Iqbal’s poem “A Child’s Prayer”: the child prays that his life may be like a candle that lights up the world, that he may love knowledge, serve his country, help the poor and weak, and always follow the right path.
